Monday, 8 October 2018

نعت

مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے


مجھے در پہ پھر بلانا مدنی مدینے والے 
مئے عشق بھی پلانا مدنی مدینے والے 
مری آنکھ میں سمانا مدنی مدینے والے 
بنے دل تیرا ٹھکانہ مدنی مدینے والے  
تری جب کہ دید ہو گی جبھی میری عید ہو گی 
مرے خواب میں تم آنا مدنی مدینے والے  
مجھے سب ستا رہے ہیں مرا دل دکھا رہے ہیں 
تمہی حوصلہ بڑھانا مدنی مدینے والے  
مرے سب عزیز چھوٹے سبھی یار بھی تو روٹھے 
کہیں تم نہ روٹھ جانا مدنی مدینے والے  
میں اگرچہ ہوں کمینہ ترا ہوں شہ مدینہ 
مجھے سینے سے لگانا مدنی مدینے والے  
ترے در سے شاہ بہتر ترے آستاں سے بڑھ کر 
ہے بھلا کوئی ٹھکانہ مدنی مدینے والے  
ترا تجھ سے ہوں سوالی شہا پھیرنا نہ خالی 
مجھے اپنا تم بنانا مدنی مدینے والے  
یہ مریض مر رہا ہے ترے ہاتھ میں شفاء ہے 
اے طبیب جلد آنا مدنی مدینے والے  
تُو ہی انبیاء کا سرور تُو ہی جہاں کا یاور 
تُو ہی رہبرِ زمانہ مدنی مدینے والے  
تُو ہے بیکسوں کا یاور اے مرے غریب پرور 
ہے سخی تیرا گھرانا مدنی مدینے والے  
تُو خدا کے بعد بہتر ہے سبھی سے میرے سرور 
ترا ہاشمی گھرانہ مدنی مدینے والے  
تیری فرش پر حکومت تری عرش پر حکومت 
تُو شہنشہ زمانہ مدنی مدینے والے  
ترا خلق سب سے اعلیٰ ترا حسن سب سے پیارا 
فدا تجھ پہ سب زمانہ مدنی مدینے والے  
کہوں کس سے آہ! جاکر سنے کون میرے دلبر 
مرے درد کا فسانہ مدنی مدینے والے  
بعطائے رب دائم تُو ہی رزق کا ہے قاسم 
ہے ترا سب آب و دانہ مدنی مدینے والے  
میں غریب بے سہارا کہاں اور ہے گزارا 
مجھے آپ ہی نبھانا مدنی مدینے والے  
یہ کرم بڑا کرم ہے تیرے ہاتھ میں بھرم ہے 
سر حشر بخشوانا مدنی مدینے والے  
کبھی جو کی موٹی روٹی تو کبھی کھجور پانی 
ترا ایسا سادہ کھانا مدنی مدینے والے  
ہے چٹائی کا بچھوانا کبھی خاک ہی پہ سونا 
کبھی ہاتھ کا سرہانہ مدنی مدینے والے  
تیری سادگی پہ لاکھوں تیری عاجزی پہ لاکھوں 
ہوں سلام عاجزانہ مدنی مدینے والے  
ملے نزع میں بھی راحت، رہوں قبر میں سلامت 
تُو عذاب سے بچانا مدنی مدینے والے  
اے شفیع روزِ محشر! ہے گنہ کا بوجھ سر پہ 
میں پھنسا مجھے بچانا مدنی مدینے والے  
گھپ اندھیری قبر میں جب مجھے چھوڑ کر چلیں سب 
مری قبر جگمگانا مدنی مدینے والے  
مرے شاہ! وقتِ رخصت مجھے میٹھا میٹھا شربت 
تیری دید کا پلانا مدنی مدینے والے  
پس مرگ سبز گنبد کی حضور ٹھنڈی ٹھنڈی 
مجھے چھاؤں میں سُلانا مدنی مدینے والے  
مرے والدین محشر میں گو بھول جائیں سرور 
مجھے تم نہ بھول جانا مدنی مدینے والے  
شہا! تشنگی بڑی ہے یہاں دھوپ بھی کڑی ہے 
شہ حوض کوثر آنا مدنی مدینے والے  
مجھے آفتوں نے گھیرا، ہے مصیبتوں کا ڈیرہ 
یانبی مدد کو آنا مدنی مدینے والے  
ترے در کی حاضری کو جو تڑپ رہے ہیں اُن کو
شہا! جلد تم بلانا مدنی مدینے والے
کوئی اِس طرف بھی پھیرا ہو غموں کا دور اندھیرا 
اے سراپا نور! آنا مدنی مدینے والے  
کوئی پائے بخت ورگر ہے شرف شہی سے بڑھ کر 
تری نعل پاک اٹھانا مدنی مدینے والے  
مرا سینہ ہو مدینہ مرے دل کا آبگینہ 
بھی مدینہ ہی بنانا مدنی مدینے والے  
اے حبیب رب باری، ہے گنہ کا بوجھ بھاری 
تمہیں حشر میں چھڑانا مدنی مدینے والے  
مری عادتیں ہوں بہتر بنوں سنتوں کا پیکر 
مجھے متقی بنانا مدنی مدینے والے  
شہا! ایسا جذبہ پاؤں کہ میں خوب سیکھ جاؤں 
تیری سنتیں سکھانا مدنی مدینے والے  
ترے نام پر ہو قرباں مری جان، جانِ جاناں  
ہو نصیب سر کٹانا مدنی مدینے والے 
تیری سنتوں پہ چل کر مری روح جب نکل کر 
چلے تم گلے لگانا مدنی مدینے والے  
ہیں مبلغ آقا جتنے، کرو دور اُن سے فتنے 
بری موت سے بچانا مدنی مدینے والے  
مرے غوث کا وسیلہ رہے شاد سب قبیلہ 
اُنھیں خلد میں بسانا مدنی مدینے والے  
مرے جس قدر ہیں احباب اُنھیں کر دیں شاہ بیتاب 
ملے عشق کا خزانہ مدنی مدینے والے  
مری آنے والی نسلیں ترے عشق میں ہی مچلیں 
اُنھیں نیک تم بنانا مدنی مدینے والے  
ملے سنتوں کا جذبہ مرے بھائی چھوڑیں مولا
سبھی داڑھیاں منڈانا مدنی مدینے والے  
مری جس قدر ہیں بہنیں سبھی کاش برقع پہنیں 
ہو کرم شہ زمانہ مدنی مدینے والے  
دو جہان کے خزانے دئیے ہاتھ میں خدا نے 
تیرا کام ہے لٹانا مدنی مدینے والے  
ترے غم میں کاش عطار، رہے ہر گھڑی گرفتار 
غمِ مال سے بچانا مدنی مدینے والے

 ہے سبھی کے لیے باب رحمت

کھلا ہے سبھی کے لیے باب رحمت 
وہاں کوئی رتبے میں ادنیٰ نہ عالی
مرادوں سے دامن نہیں کوئی خالی، 
قطاریں لگائے کھڑے ہیں سوالی
میں پہلے پہل جب مدینے گیا تھا 
تو تھی دل کی حالت تڑپ جانے والی
وہ دربار سچ مچ میرے سامنے تھا 
ابھی تک تصور تھا جس کا خیالی
جو اِک ہاتھ سے دل سنبھالے ہوئے تھا 
تو تھی دوسرے ہاتھ میں روضے کی جالی
دعا کے لیے ہاتھ اٹھتے تو کیسے 
نہ یہ ہاتھ خالی نہ وہ ہاتھ خالی
جو پوچھا ہے تم نے کہ میں نذر کرنے 
کو کیا لے گیا تھا تو تفصیل سن لو
تھا نعتوں کا اک ہار، اشکوں کے موتی، 
درودوں کا گجرا، سلاموں کی ڈالی
دھنی اپنی قسمت کا ہے تو وہی ہے 
دیار نبی جس نے آنکھوں سے دیکھا
مقدر ہے سچا مقدر اسی کا 
نگاہ کرم جس پہ آقا نے ڈالی
میں اُس آستان حرم کا گدا ہوں 
جہاں سجدے کرتے ہیں شاہان عالم
مجھے تاجداروں سے کم مت سمجھنا 
مرا سر ہے شایان تاج بلالی
میں توصیف سرکار کر تو رہا ہوں 
مگر اپنی اوقات سے با خبر ہوں
میں صرف ایک ادنیٰ ثنا خواں ہوں ان کا 
کہاں میں کہاں نعت اقبال و حالی

اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
جب وقتِ نزع آئے دیدار عطا کرنا
اے نورِ خدا آکر آنکھوں میں سما جانا
یا در پہ بلا لینا یا خواب میں آجانا
اے پردہ نشیں دل کے پردے میں رہا کرنا
جب وقتِ نزع آئے دیدار عطا کرنا
میں قبر اندھیری میں گھبراں گا جب تنا 
امداد میری کرنے آجانا میرے آقا
روشن میری تربت کو اے نورِ خدا کرنا
جب وقتِ نزع آئے دیدار عطا کرنا
مجرم ہوں جہاں بھر کا محشر میں بھرم رکھنا
رسوائے زمانہ ہوں دامن میں چھپا لینا
مقبول دعا میری اے نورِ خدا کرنا
جب وقتِ نزع آئے دیدار عطا کرنا
چہرے سے ضیا پائی ان چاند ستاروں نے
اس در سے شفا پائی دکھ درد کے ماروں نے
آتا ہے انہیں صابر ہر دکھ کی دوا کرنا`
جب وقتِ نزع آئے دیدار عطا کرنا
اے سبز گنبد والے منظور دعا کرنا
جب وقتِ نزع آئے دیدار عطا کرنا


جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں

جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضور جانتے ہیں
تیری عطا سے خدایا حضور جانتے ہیں

وہ مومنوں کی تو جانوں سے بھی قریب ہوئے
کہاں سے کس نے پکارا حضور جانتے ہیں

ملے تھے راہ میں نو بار کس لیے موسیٰ
یہ دید حق کا بہانہ حضور جانتے ہیں

میں چپ کھڑا ہوں مواجہ پہ سر جھکائے ہوئے
سناؤں کیسے فسانہ حضور جانتے ہیں

چھپا رہے ہیں لگاتار میرے عیبوں کو
میں کس قدر ہوں کمینہ حضور جانتے ہیں

ہرن نے اونٹ نے چڑیوں نے کی یہی فریاد
کہ اُن کے غم کا مداوا حضور جانتے ہیں

ہرن یہ کہنے لگی چھوڑ دے مجھے سید
میں لوٹ آؤں گی واللہ حضور جانتے ہیں

بلا رہے ہیں نبی جا کے اتنا بول اسے
درخت کیسے چلے گا حضور جانتے ہیں

میں اُن کی بات کروں یہ نہیں میری اوقات
کہ شانِ فاطمہ زہرا حضور جانتے ہیں

کہاں مریں گے ابوجہل و عتبہ و شیبہ
کہ جنگ بدر کا نقشہ حضور جانتے ہیں

نہیں ہے زادِ سفر پاس جن غلاموں کے
اُنہیں بھی در پہ بلانا حضور جانتے ہیں

خدا ہی جانے عبید اُن کو ہے پتا کیا کیا
ہمیں پتا ہے بس اتنا حضور جانتے ہیں


ہو کرم سرکار اب تو ہوگئے غم بے شمار

ہو کرم سرکار اب تو ہوگئے غم بے شمار
جان و دل تم پر فدا اے دو جہاں کے تاجدار

میں اکیلا اور مسائل زندگی کے بے شمار
آپ کہی کچھ کیجیے نا اے شہِ عالی وفا

جا رہا ہے قافلہ طیبہ نگر روتا ہوا
میں رہا جاتا ہوں تنہا اے حبیبِ کردگار

جلد پھر تم لو بلا اور سبز گنبد تو دکھا
حاضری کی آرزو نے کردیا پھر بے قرار

قافلے والوں سُنو یاد آئے تو میرا سلام
عرض کرنا روتے روتے ہوسکے تو بار بار

گنبدِ خضریٰ کے جلوے اور وہ افطاریاں 
یاد آتی ہیں بہت رمضانِ طیبہ کی بہار

غمزدہ یوں نہ ہوا ہوتا عبیدِ قادری
اِس برس بھی دیکھتا گر سبز گنبد کی بہار


کوئ سلیقہ ہے آرزو کا نہ
------*********------**--
کوئی سلیقہ ہے آرزو کا نہ بندگی میری بندگی ہے
یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے

کسی کا احسان کیوں اُٹھائیں کسی کو حالات کیوں بتاءیں
تمھیں سے مانگیں گے تم ہی دو گے تمھارے در سے ہی لو لگی ہے

تجلیوں کے کفیل تم ہو مرادِ قلبِ خلیل تم ہو
خدا کی روشن دلیل تم ہو یہ سب تمہاری ہی روشنی ہے

تمہیں ہو روحِ روانِ ہستی سکوں نظر کا دلوں کی مستی
ہے دو جہاں کی بہار تم سے تمہیں سے پھولوں میں تازگی ہے

شعور و فکر و نظر کے دعوے حدِ تعین سے بڑھ نہ پائے
نہ چھو سکے اِن بلندیوں کو جہاں مقامِ محمدی ہے

نظر نظر رحمتِ سراپا ادا ادا غیرتِ مسیحا
ضمیرِ مردہ بھی جی اُٹھے ہیں جِدھر تمہاری نظر اُٹھی ہے

عمل کی میرے اساس کیا ہے بجز ندامت کے پاس کیا ہے
رہے سلامت تمہاری نسبت مرا تو اک آسرا یہی ہے

عطا کیا مجھ کو دردِ اُلفت کہاں تھی یہ پُر خطا کی قسمت
میں اس کرم کے کہاں تھا قابل حضور کی بندہ پروری ہے

اُنہی کے در سے خدا ملا ہے انہیں سے اس کا پتہ چلا ہے
وہ آئینہ جو خدا نما ہے جمالِ حسن حضور ہی ہے

بشیر کہیے نذیر کہیے انہیں سراجِ منیر کہیے
جو سَر بَسر ہے کلامِ ربی وہ میرے آقا کی زندگی ہے

ثنائے محبوبِ حق کے قرباں سرورِ جاں کا یہی ہے عُنواں
ہر ایک مستی فنا بداماں یہ کیف ہی کیفِ سرمدی ہے

ہم اپنے اعمال جانتے ہیں ہم اپنی نسبت سے کچھ نہیں ہیں
تمہارے در کی عظیم نسبت متاعِ عظمت بنی ہوئی ہے

یہی ہے خالد اساسِ رحمت یہی ہے خالد بنائے عظمت
نبی کا عرفان زندگی ہے نبی کا عرفان بندگی ہے

No comments:

Post a Comment

معني اللغوي الاستوي

  1.اللغوي السلفي الأديب أبو عبد الرحمن عبد الله بن يحيى بن المبارك [ت237هـ]، كان عارفا باللغة والنحو، قال في كتابه "غريب ...