تمنا مدتوں سے ہے جمال مصطفیٰ دیکھوں
امام الانبیاء ﷺ دیکھوں
، حبیب کبریا دیکھوں
وہ جن کے دم قدم سے
صبح نے بھی روشنی پائی
منور کر دیا جس نے
، فضا وہ رہنما دیکھوں
وہ جن کی برکتوں
سے ابر و باراں بستے عالم میں
تمنا قلب مضطر کی
وہ درِّ بے بہا دیکھوں
قدم باہر مدینہ سے
تصور میں مدینہ ہے
الہی یا الہی عظمتوں
کی انتہا دیکھوں
یہ دنیا بے ثبات و بے
وفا و غم کا گہوارا
یہ ہے مطلوب: دارِ بے
وفائی میں وفا دیکھوں
تمنا مدتوں سے ہے جمال مصطفیٰ ﷺ دیکھوں
وہ مبدأ خلق عالم کا،
درود ان پر سلام ان پر
میرے مولی یہ
موقع دیں کہ ختم
الانبیاء ﷺدیکھوں
کبھی ہو حسن کی محفل
، کبھی ہو شوق کا منظر
کبھی آنسو کی زنجیروں
میں عاشق کی صدا دیکھوں
رَسُولٌ قَاسُم الْخيْرَاتِ
فِی الدُّنْيَا وَ فِی الْعُقْبی
شفیق از نفس ما در ما
، نبی مجتبیٰ دیکھوں
در جنت پہ حاضر ہووں
رسول پاک ﷺ کے ہم راہ
شفاعت کا یہ منظر یا
خدایا میں رضا دیکھوں
تمنا مدتوں سے ہے جمال مصطفیٰ ﷺ دیکھوں
امام الانبیاء دیکھوں
، حبیب کبریا دیکھوں
4
جو ہوچکا ہے جو ہوگا حضورﷺ جانتے ہیں
تیری عطا سے خدایا حضورﷺ جانتے ہیں
یہ ہرن کہنے لگی چھوڑ دے مجھے صیاد
میں لوٹ آؤں گی واللہ حضورﷺ جانتے ہیں
ہرن نے اونٹ نے چڑیوں نے کی یہ فریاد
ان کے غم کا مداوں حضورﷺ جانتے ہیں
کہاں مریں گے ابوجہل و عتبہ و شیبہ
کہ جنگ بدر کا نقشہ حضورﷺ جانتے ہیں
وہ مومنوں کی تو جانوں سے بھی قریب ہوئے
کہاں سے کس نے پکارا حضورﷺ جانتے ہیں
وہ کتنا فاصلہ تھا کلام تھا کیسا؟
او ادنی او حی حضورﷺ جانتے ہیں
ملے تھے راہ میں نو بار کس لیے موسیٰ ؑ
یہ دید حق کا بہانہ حضورﷺ جانتے ہیں
اسی لیے تو سلایا ہے اپنے پہلو میں
یار غار کا رتبہ حضور ﷺ جانتے ہیں
عمرؓ تن سے جدا کر دیا تھا سر جس کا
وہ اپنا تھا کہ پرایا حضور ﷺ جانتے ہیں
نبی ﷺ کا فیصلہ نہ مان کر وہ جان سے گیا
مزاج عمر ؓ کا ہے کیسا حضور ﷺ جانتے ہیں
وہی ہیں پیکر شرم حیاء ذونورین ؓ
مقام ان کی حیاء کا حضور ﷺ جانتے ہیں
وہ خود شہید ہیں بیٹے نواسے پوتے شہید
علیؓ کی شان یگانہ حضور ﷺ جانتے ہیں
ہے جس کے مولا حضور ﷺ علیؓ ہیں اس کے مولا
ابو تراب ؓ کا رتبہ حضور ﷺ جانتے ہیں
میں ان کی بات کروں یہ کہاں میری اوقات
کہ شان فاطمہ زہرا ؓ حضور ﷺ جانتے ہیں
جنان کون ہیں سردار ہیں نوجوانوں کے
حسن ؓ حسین ؓ کے نانا حضور ﷺ جانتے ہیں
No comments:
Post a Comment